۳٣۰۲٣ ٣۷.۷٥۲17 ام‎ +٥8.

شیع مامت موا نا تھا نو یکی

مصنف

مزانظ رائل سنت ماہررفحویات ءعلام کپ را نت رھدا ی ””معروف“ (مرکاکیموری)

2< 6 ماک وک ٠‏ الا امام اأحمد رضا روڈ میمن واذ وو پر : سالف پوربندرء گجرات (الھند)

1

67ھ

روف رینگ:

تفراو: کن اشاعت: نار پاایخمام:

۲۱٢۰٢۹٥٣ - 15‏ ,7دھے سط6 ح٥٥1‏ 031۲11 8:1816 با١‏ ط١3۸ ۷۸١۸٢۱1١‏ با ەم06 یئاہ ظط 141 مص۸ ط۸0۱ باط۸ ۷( 1١۹411, (۸۷1۸1٢1١‏ زرجصھ۸ 5٦ط( >٢‏ ((:۴۹٦۴لذٛھ)‏ 141 11-214۲1888 :.++٤٥٥٤٥۱عت0)‏ ۲۱1ہک ١1ط:-ھ‏

10:116

01.00 صصتنا علط7ہ[٥۷. ۳٣٢٢۲٣٢‏ صواا نا تمانوی اجس خرق

دالیء دی دی او یی بماعٹدےے یم الات موا نوا ٹوب یکیملھی صلاحرت

مزا ظرائل سنت علامکبدالتار برا لی ”* معرو نضرت عا ٦ٔ‏ انو ارام بخرادگی

مین تکیء پور بندر

حخرت لا یشگ اج مص بای

٠٠١‏ لگپارہسو)

٣٣‏ را ۳۰۰۹ء

رکز اٹل سنت برکات رضاء پور بندر ‏ گجثرات ) علا ہج پدالستارہھدالی :مصروف برکائی موری

مو ان تزائو ا صلاحت +٥58٠.‏ ام ۳٣۰۲٣ ٣۷.۷۸37‏ 3

عم ال رالرئشن الرم َحْمَدَه وَنصَلِیْ وَ نَسَلِمْ عَلی رَسُوُله الْكرِیٔم

گرم مک اعیت وافادیت برددر سم رای ہے۔ اھ بئات می سا ات ف کن مک یکفدت ووقع تک رف اشاروفر مایا گیا ے۔اوراسلا مکی اشاعت و فروغ ہی ںبھی*چہاد اقم“ کواساسی حیثیت حاصل ہے تک ہآ رن ہعاارے پا بھی اسلا مکی تحایات ڈ نیش ربریشکل میس مو جودہےہ جارے اسعلاف “ھا ہکرام سے نےکر ماصی قرب کےمرز علماۓےگرام نے اپٹ یہ خری سا سکک چہاد پافکفر کر ہم سب کے لے لا نتقلیرکارنامہاججام دیا۔ گزشن: ری کےمدد وین امام ائل سنت ایی حفرتت محرث پر یلدگی علیرال مہ نے ای زندگی کے بت لا تکولو وم کے ذر لع تراروں صفیات پرتزیذات و ربیا ت کا ایماان افروزس ماب امت مل کوعطافر اکر پوریی امت پرا مان شی فرمایا۔ ا نکا یکا رنامدرہتی دنا تک قائم رےگاء انشاء اش۔

آ مار جاب دشمنان اسلام وسنیت 7 7 گمرا ہی تکیاگھنا ٹپ تار بکی یش پان ےک وش نیل سرک مل ہیں ان حالات سے مین کے لی ردری ےک لی حر تق بر اوبی علیہال رح اورابل سنت والماعت کے شییم لا او رین کی تلیمات ون فا تکو نیز الا فکرام کے اذکاروظ ریا تکوعا مکردیاجائۓے-

صوب ہگثرات کے شر پور بندرییس اان بی عالات کے یی نظ رھ رکز ایل سنت برکات رضا“ کی داغ یل ڈا یگئی۔ جس کے بای ونس من ظ راب سنتء علامیعبدامتتارہعدالی صاحب ہیں ء جوخودی ایک ای مصنف مشعلہ بیان مقرراورمنا خ کی حشیت سےکوام وخوائص ال سنت کے مابین متعارف ہیں ۔آپ سیدی رکا رمفتقی انم ہندعلی ارجم سے :یت وارادت اورخلافت رت ہیں ء

4 00 .00ا۰ 1ط۱۷۸1:370. ٣۷۲۲۷٣۲۲‏ مو نا تزائو 001 سید ای حضرت سے گی عقمیرت وحبت کے سات آپ کے مسلک او رش نکو چیا ن ےکی جدو جہد گر ہیں۔

مز ال سنتشنق ر رص رٹل 265 کنا ہیں شا کر کے دسییوں ملک میں با یکا جھ زیادہترع لی ز پان یل ہیں ءاوراس کے علا وہ ارددءاگر بیز گیء فاریء ہندگی گج رای اور یلم ز بان بھی ہیں ۔ا نکابوں میس زیادوق د ہکا ئیں ہیں ج بات ایی ححضر کی ع بی تن فا ت نیس یا چھر آ پک اردوتقزیفا تکو ری جامہ پہنایگیاء چھرا نکوشب وف مک ےآ راست ہکیا گا اس کے علادہ اعلا فکرا مکی عم رب تیذا تکوجد بدکپوزنگ اوردیدہز یب ٹائیل سے زی نکر کےعرب جو تک پپچایاگیاجنس کے خاطرخوا ہا غکا نی حعدٹک سان ےآ جے ہیں۔

رکز ال سن تکیمطبوحوات میں مندرج ذٹ لکتا ڈیں نقائل ذکر ہیں :

(١)الفتاوی‏ الرضویة(٭جلر یں )(٢)الدولة‏ المکیة(۳) انباء الحی(٤)‏ شرح فتح القدیر(زمخحشری)(٥)‏ الشفاء بتعریف حقوق المصطفی(٦)‏ نسیم الریاض(۷) تفسیر الکشاف(۸) شرح صحیح مسلم(۹) تفھیم البخاری شرح صحیح البخاری(١٠)‏ اخطاً ابن تیمیه(١۱)‏ فتاوی ابن تیمیه فی المیزان(۱۲) تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق(۱۳) تجلی الیقین بن نبینا سید المرسلین(١ )١‏ فتح المغیث(١١)‏ بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع(٦٥)‏ الزبدة الزکیة لتحریم سجود التحیة(۱۷) الصواعق الإالھیة فی الرد علی الوهابیة(۱۸) کتاب الفقه علی المذاهب الأربعة(۱۹) المقاصد الحسنةء صفوۃ المدیح جن یی عرپی فو تج )٠٢()‏ الھاد الکاف فی حکم الضعاف(١۲۱)‏ المدح النبوی بین الغلو الانصاف )۲٢(‏ المنظومة السلامیة(۲۳) النصیحة لاخواننا علماء نجد وغیرہ

مرکز اث سن تکی الس لیم خ دم تکی اضجام ددی کے لیے عالم اسلا مکی لیم دا کاو از ہر یونیورٹی :مع کےعلاءادرفا رشان جھارے شانہبشان ہیں ءم ان کے تہردگل ےتحک رکم ار ہیں۔

مولا نانوی کی - اضف 0٥۰‏ صصا:م۷131:317. ۳٣۳٢۲۷‏ 5

مرک ال سنت مال ایک طرف مسلک ا٦ی‏ حر تکی تر وع دا شاعت ٹیل بجع مصروف ہے و ہیں دوسری جانب امام ائل سنت ایی طرت پر ساں سیے جانے وانے ہر ہراحترائش کا دنداں شکن جوا ببھی دےر ہے اون حدستک مسکھی وفاع وحووطا می کو یکس باقی یی س رنھی عاری ے۔

ز ملظ رتا بے“ دبا ی ری انی عجماعت کےکےہم الامت قانوی صاح بک می صلاحیت'“ بھی ای سلسل کی ایک مضبو طکڑھی ےہ جوعلامہ ہعدائی صاح بکی مکی دفاغ ٹیش ایک تی تصزیف ہے جس می ںآپ نے اشر فی تھا نکی صاح بکو ایک بے استتحدادصولوئی ظا رکیا ہے اور بجر ایشرد ہو بنلدی مکت کک رک یکا وں اورعبادقاں سے مبرجن ہے۔اور دوس رکی جائب می وشمنان ائل سن ت تھا نکی صاح بکوا پناامام دینٹچوا یہا لک کک اس صد یکا مر صلی مکرتے ہیں۔

آپ ا لکاب یں طاحظیطرمائکیں گ ےک اشر فی ففافبی صاحبکس پر ریم بل سے کات :اوتففرت ودای اب ت٤‏ اع مس ےلحننع کے نوز ےی کون قرو اکر ے۔

موا ۓکریم ان کےیلم نل اورعمر وبحت میں مزید برکتیں عطا فرماۓے۔ اور ہم سب کوہابھی انفاقی اوراخلائش کے سات وین وسیت اورقوم ول کی خدم تن ےکی توف ربیتی مربق تفر مائے ۔آ مین

طاابدما مور :۳۳ رجب ال رجب۳۹اد ارشکیگی جلا ی مطا بلق :۲۸ر جوا لی ۲۰۰۸ء رکز ال سنت برکات رضا 7-0 امام ابمرضاروڈکن واڈ

پور در( گجرات)

6 .31ص٥٥‏ ط173 ۳٣٣٣۲.۷٥‏ مزا نا تھما وی انیس جت

تَحْمَدۂ ونَصَلَیْ و نَسَلم عَلی رَسُوله الیم

ا0 0 0 0 000 ا00/0 ٣۰۰۰۸001‏

الحمدللہ !آج مور ۲۷ رصغ رلمظف ۲۹ ما مطابق ۵ مار ٥ء‏ بروز ےشن نل البلاد وخ رالبلادثی الحصند ابی رمقس حاضرہوا۔ حاضر یکا بب ابل سنت و جماعت کے ھ رکز یی ادارے'2دارالعلوم رضاۓ خوا کے لے خر بدییکئی زی نکی رہ تی سے لیٹس رچمیزارآشن مس سجن اکر نے کے لیے تھا۔ ان تماما مور سے ار ہونے کے بصدسب سے پیل یس نےش را6 سرکار ان ن القامماءمکلستتان برکیات کے شاداب پچھول ۷ر ہبش را 00 قبلہ ڈ کش اشن میاں صاحب دامت برکاتعم العالیہ جادوشین خانقاہ عالیہ قاددیہبرکا تی مار بر مطبرہ سے بد یہی فون راب یقن مک کے زی نکی رجنٹری کےکاغخزات ک ےکی لکی اطلاع دگی اور بیعش مز بی ا آنت مرا ارادوسلطان البندہ بوارت کےشمنشا :مخ فو دو برکات عطاء رل٠‏ ححفرت خواب رشان الد بن جچسحی ری ہس رکا خر جیب و انز نشی ال تحالی عنروا رضادعنا کے مقی رس1 ستاتء نت نشان میس یٹک انی خ تی کی ارنقراءک رن کا ہے ء اذا آپ اپنی تفص دعائوں کے ساتھ اجازت م جح تفر ما تی مفقی رک یگ ار لکوشر ف قولیت سے و ازتے ہو ۓ ححضر ت قبلہس رکا ران مت نے دعائوںل ےداز تے ہو ۓ و می مسر تکا اظپہارٹرمایا-

بعد یش راد تضور ان العما ہک لگمزار نما ندان برکاتء شی مات مر شدراجازت منرت قبلرسی تیب حیدرصاحب دامت برکاتهم العالبیہ بھی بذ رجہ نی فون بجی اطلاع دی اور می گار شکی۔ جواباححضر تکی دعا و کی موسلا دجھار بای اوری یک ن نبا ا شے_

!بت ہما زحنھا مس کا رخواو حر یب ٹوانز ری ارتا لی عفردارضاہعنا کےآ ستتانہ کے احاطہ خر

مو ان تزائو و صلاحت .٠8ط‏ صا+ ام ۳٣۲٣ ٣۷.۷٥37‏ 7

وہرکت وف ری ںآ پک 0 5 کی رف حخرت تل سدصا ریا ںضق ےن“ مگدیشریف“ یش حضرت کےصاجز ار ےحطرت سی ہی جن اورتطرت شا ھودہچشتی کے ان کےز مرسام جحخرت علامہ جا مر صاح وشن ری خیب وامامصندبی مود احاطہ درگا می ء ای رش لیف می ری نیف انی ایک سوسرعویں (ے۱۱) تصفیف ہنام نو الیء دی بندیی او فی جماعت سک ےحیم الا مت مو( تا افو ی کی راھد“ گی ابتڈا کردگی ہے او رآ ا ۓلحقتہ سراپائۓے الف و عنایتءسلطان الہندر ححضرت خوا بن الد بن شی ری اتی عنہ کےٹیٹش وکرم تصرف امیر نیس بی نکائل ےک انشا ء الیل تی دانشا ء حر یسکی ال تھا لی علیہ دی الو اسحابہ تاب بہت می جلد یا ی اغقنا می کرٹٹع نشی عام دنا اورمقبو لعندا نر ورسولہوالناس ہی -

اتارک وتھالی اپن عیب انم واکر کی ارڈ تا لی علیہ یلم کےصدق ونٹیل تراممسلمان ای سشت و ماع تکوایما نکی گی کے ساتق تصلب ل الدب کا جرب صادل عطان رہاۓے اورای راہ تق رز نگ یک یہ خری سراپ سک موی سے قائم رکنتے ہو ایما نک موت عطافمائے۔

ین مآ مین فتلاواسلام

نزیل اجھیرشریف خمانقادعالیہقادد یہ برکا ار ہر مطبرہ مورت :۷٢رف‏ لمظف ام اور مطاین:۵ مار ۸ء ماظادعالیرضویوریہہ بب یثریف بروز:سشنہ کا دی سوا ی

عبدالستارجداٹی مصروف برکائی ور (۱) نماک ین ستاویغ ریب و ازسی شی صن )٣(‏ شا مور (۳) نان دنقشمندیء امام سرصندرل خانہ اجب رشرریف

8 ٦ك٣٠‏ ۶۱ / وف و مور نا مان وی انیس جتے

8

دنیا کی ہرقو مکاز مانتقر مم سے بدستورر ہا ےکرو این ٹوا یت ریف ون صیف میں حد در رگنشاں رءک رشح مک یکس باقی فیس رن دب بی بھی صصدق وصداقت کے دانع سے اھ نی کںکرخلوکی اعلی سے اع لی منز لم کت جک کن بصص رادرس اس فلطبیانیٰ کےگہرےسندرر می لنحوطہ زن یکرنے میں بھی اک انرک عاردیا یں یں /ری, لہ یٹیشریی اور بے حیائی 1 :7..--. تر ایس بن کرنے میں ظرکرتی ہے۔ ار یکئی مثالیس ٹین کی جاعلتی ہی ںکہ فان دفاج رکوننی و گار ر ہٹرن نما نکوابات دار نا حم داب رکو ہجدردقومء بداخلاقی بدآروا رگواخلاق ح کا وگ۸ لہ فاص یکو پاک داررنء بر نکور ہیر ان پڑ یکو ما لرء چائ لکوفاضلء اتک لکوعلا مہہ اما کو شیطانءدجا لکو نرہ بکاشحکید ارہ تق لکوداناءرذ ب لکوعبغرب اور ظطر فک جرد بارخاب تک ت ےکا کوٹ وی میس پچ اورر اس یکو بالا تۓ طاق روک ا ندھا با دیون یاں ہ رپچ رکےاپنوں ب یکو ۓ" والی شک پخو بن لکیاگیاہے۔

تبرت او رنج بکیا بات نے بیہ ےکر اپنے یٹاک مجھوٹ پیف ریف کے پل باند صن کے لیے ای ای منخیک دیس یی کی جائی ہی سک نے وال ہت نت لوٹ ہوجانا ے۔ا کی یکل و بے موقعددییل ہوٹی ہکرت لبھی رت میس پڑ انی ہے۔ جب ا لمکا طرٹل رای بیٹوانوں کے محاٹے میس اپنایاجا تا ہے تب الیماصد مہ چا س ےک اس کے مھ ار کک یل ٹنیس1 کی۔

عالی بی ٹل می ری ے مطالع یس دبالیء دیو بندی ہنی جراعت سمش ہورمصتف ڈ اکر مول وی خمالدمودہ ایم۔اےہ بی- اپ -ڈکی ءکیتصنی فکرد تاب ”مطالطۂ پر علویت“ آکیءآومبسوط جلاروں می سک التدا وصفیات مشقتل ڈاک خالمودکی اس دع کا لکو جک رالبا گنا ےکسشاید دیو بندگی فاضل ن ےکذب ودروغ گوئی بش ہی ڈاکٹر بی کی ڈگکریی حاص لک ہے ۔کیو کہ امام عشق رعیت, علی حر ت نیم البرکتء دو ین وت امام ال سطت :ئن الاسلام وا سن رام ار رض شف بر بلدکی علیرالرحمۃ والرضوا نکی ذات سقوددصفا تکودانمدرارکر نے کے لیے افھوں نے

٦7++ٰ٘ىپى'9‏ ہہ گُھئھ مھوٹءکرب:فریبء دروغ ءکچلہ مفالظہءکرہ الامء انھامء پچنان تبست اور افزا کا جس کشزت سے مپچڑرا ھا ہے را نکی درا مل کی فنکا رٹک شمان ہے۔امام ام رضاصفق بریلوی علیالرحمیۃ والرضوا نکیخنصی تکویجرو ںکرنے کے سا تحدسا تع مصلف نے وہای :می جماعت کے کیم الامت وپنٹوا مولا نا اشر فعلی صاحب نو یکیعلھی صلاح تک لوہ منوانے کے لیے اپے کب بای کےا نکی مہارت کےبھیجلوےدکھا ے ہیں ۔ تاب مطالعۂ پر یلوییت ای خط ناک انداز می تصفی فک یکئی ےک وہای دیو یندی مک

گکراورائل سشت و جراعت پر یوک یکن کر کے مابین اصصو می عقا دی اشنا فک یکیائل معلومات نہ رک والا اورکم پڑ کی اشن مصنف کےکذذب بای کے جادو سے سان دوک کھا جا ےگا کیو ںکمصنف نے ٹیل وموقۃ عپا رت أف لک کے ا کان چا پا مطلب لوم با نکر کے اس ےکن می ںفحض وعناد بل اپنی راۓ کے کے بعد افزا پردازی اور ا ہام طراز کی ایی او مچھاڑکی ےکہ پڑ ھن وا ل ےکاذ ہکن الیما ٹل شس اود ماف ہوجا تا ےکردورانع مطالع رع رش طور ردق وکذب کے ایا زکااحماس مفقودہوجاجاے اوردہنادا سے پدگا ی کاشکارہوچاتاے-

مطالعۂ ب یاویتکتناب کے مصنف نے امام کش دبحبت ہخرت رضاب بوکی کے غلاف زہرا گے میس درو گوٹی او رکغذب بھالیٰ کی تمام سرعد یں عبورکر کےکاذ می نکی صف اول بیس اپنا مقام مو نکرلیاہے۔ رام الھروف نے ا نک یتصنی فکا نظ رق مطالع کیا :فی تقیقت سا ےآ یکہ مصنف نے ایک طحھمساززش کت ادا نشم وحبت حضرت رضا بر یلدکی کے داس نکودادارکر نے ک یکیشت کی ہے۔ انا مصنف کے ذریجہ عائدکردہ قیام اختراضات والزا مات کامفعل و مل زریری جوا ب کمن وقتکی اب مضرورت ےب ای ھروررت دی کے یی ں کے مطال ید پریاو ہے“ کے جوا بک موی قسھطآپ کے پاتھوں میں ہے۔ اور بی جوا ببھی ایک نت کا بک شکل میں ہے۔ انشاء الیل تھی وانشا جیپ( چل جلالہ صلی اویل تھی علیہ یلم ) ہراعتزراض و الا رکامتتل کنا بکیصورت مل جواب دیاجات ۓگا-

10 ٣ك٣٠‏ ۶ئ و مور نا مان وی انیس حرت

مطالعۂ پر ملاییت“ کاب کے جوا بک قط اول این ٹکا جواب پھر سے دتنے ہہوۓ اور قا ری نکرام او خائ شکرمطالعۂ پر ایت کے مصن فکی ضیاختش کی اط رتھانوئی صاح بک عھی صلاحیت ک ینان سے دیاجار ا سے ۔کیو ںکہمصنف نے اپ کاب می عنوالن سے ہہ ٹکر اور بے تل وموقہتھانوبی صاح بک نیف وذ صیف میں ز می نآ سمان کے فا بے ملاد ہے ہیں ۔حیر تن اس بات پر ےک ہتھانوئی صاح بک یملی جلال تکاسسکہ یٹھانے کے لے اورتھا نی صاح بکیعکھی صلاحیتکالو ہا منوانے کے لیے مصنف ار یکنردورواغردلیل لاے ہہ ںکچ٘ سکاکوئی وزن پیکیںء موب می تل ہے ہوا ک ےجو کے ےگھاس کے تنک کی ط رح ا ہک رچھ رجا ای ولیل یی کر کےمصنف صاحب بندافلوں میں تھا نکی صاح بک یھی بے اضائقی کااعتزا اف/ررے یں

پاکستان نام کے نۓ مل ککیا کیل بی نمایاکرداراداکر نے وا لے شہورومتروف سیاسی لیڑر جناب شرع جناج صاح بک جن نکی زندگ یکا ہرم صرف اورصرف دیو پیم کےتصول, بعدۂ ذکاات کے پیش ےکی مہارت اور رز ند کی آخری سال سکک ساس تک بک ہیل پاکتتا نکی جرد ججہدادر قیام پاکستان کے بح نظام ونفاذ احکامات ملک میں صرف ہوا۔ جناب می جناحں صاحب برکور ہا مور ٹیل اس قد رم ہک اور صروف ر ےک رائعیں د نی اورنرٹیپعلیم وامورکی طرف الما تکر ےکا موق هی میس نیس ہوا اوراچیں و بٹی نب یلیم کےتصو لا شو بھی ہیس توا_اپزا آھوں نے بب تیم می ںبھ یبھی دیس لی اورا نکی زنر می لکوگی خوش لآ مد حا شی یما ںآیا ڈ گل م بن ور ٣طت‏ اتیل وا ما وسمرے ناب یی جناں صاح بکوسلم لیڈ ردق تدورجنما کی ثیت سے شرت حاصل ہوئی سے حب سے انا تک وہ ہمہ وقت صرف اورصرف ساست ہی میں مشخول رے۔ الہت وحن کات اکر ے رای ٹنڈواوں سے رب وضہیااورشاساگی رھت ان بل ملا صرف سیا امور ‏ تخت اور سیاسی افرا ومقاصد کے لیے ہی تھا۔ ئل ! جناب ئجریلی صاحب می ںکوئی ای جرب یھی صلاحیت قطعا :یش کہ وہای عالم دی کا ھی معیار نا گیل امس زی ٹوا کی لی صلاحر تکا

مرزجقئ یی ںریے صءافددساطدمغمال سس انراز ہکا میں_ ین تیرت وج بکا بات یر ےک مطال کر یلوات “کے مصنف نے اٹ یکناب میں دبا یء

دلو نی ہف جراعت ک ےکی الامت مولوکی اشر کی ھا یک یھی جلا تکا پر چم اہرانے کے لیت ریک قیام پاکستان کے قامدہ جنا بجی جناح صاح بکادال٣‏ ن تھا ما اور یہا لت کلگددیاکہ:

ات امم کےم شر تحضر ت کیم الامت مولا نا اشر ٦ی‏ تھا وی او رش

الاسلام مولانا شر اسم عخثاٰی کے بارے میں بہت عیدہ ےہ ضرت مولا نا

تھا نکی کے بارے میں قائمدائض مکپہکرتے ےک ہندوسزان کے سا رےعلاء

ا علم ایک طرف ریس اورتھا مولان انی باعلم دوسری طرفء تو مولانا

تمانوبی کا بپٹڑا جک جا ےگا سکم پیک کے جلسوں میس اشر فی زندہ باد

کےنرے کت ے اور رک پاکتتان می سخظمت اسلا مکا نشثان موا اشبر

اتحدعنا یکو مچھا جانا تماء ریصورت عال ب ماود لوں کے لے نا نقائل برداشت

“۴

حوالہ: مطالعہ پر عاومیت: مصنف: ڈاکٹر علا مہ نمال ود جلد:ا :۱۰۹ ناشجر: شی بک ڈیو لو ند کو لی صرف مطالحہ پر یایت کے مصنف جناب خال و رصاحب ب ینیل بلکندد ہل یء دلو بندکی اورلٹی 7ٰ۶ لن رآواز ےتید خوالی بیس رطب اللمان ے اور بے ھر ے تھا دئی صاح بکوش چو“ اور ”یم الامےٴ“ کے قب سے ملق بفکرتا ہنع دیو بنلدی مفرات نو تافو یمکوصرف چو دجو میں صدک یکا بج ینجیس بلہ اس امم تکا سب سے بڑاعا لم کت یں۔ جب الن سے لہ پچھاجا تا ےکہ جناب ج بآ پ تھاندئی صاح بک مجدو “صلی مکرتے ہیں من ہر مردکا تید بد یکارنا مہ ہوا ہےء برا ہکم مآپ اپنے مجردتھافوئی صاح بکا تید ید یکارنامل تانمیں؟ ال عوالی کے جواب می ٹھا وی صاحب ک تح یدگ یککارنا مکی دییل میس دولوک نھا وی صاح بک کاب

8 ص۱ ٠د‏ صصددہلط2 ۷۸۷۳ ۷٣۷٣‏ مولا نا افو یکی؟لی صلاحت

ز یلو شموت ٹڈ لکرتے ہیں ۔ علادہ از ہرد یویند مک کک ر کے داز ٹیل ؛نقارر ش٠‏ صواعظا وخطابت میلء اخبارات وررائل میں بہ ٹی دکی اورا نیٹ می تھا وی صاحب کے مکی بلندی کی ڈ ینگ پا کے میس جوکاذ بات طرزنل اخقیارکیاجاتا ہے اس سے ہرانصاف پہندکن قلق واضطراب ہوتاہے۔ ناواقف حظرات الے فلط اور دروخ وی ہر مفقل پرو پن لن × ۶۲۱7۵) کے دام ف یب میںکچٹس جات ہیں اورتھانوئی صاح بک ای اصلاحیت کے مرف دقائل ہوجاتے ہیں۔

ابصوالل مہ پیراہونا ےک کی تھان دی صاحب دای ز بردست عالم دن تھے؟ کیا ان اعم تام علماۓ ملک کےییکم کےجموم بھی ذاُی تھا کیا ود واققی ات ذبےعلم کے عائل تےکہا نکا تا مجر دن سکیاجا گے؟

اس سوالی کے جواب میں صرف اما بی عو سک رنا سی اکخژاف کرنے کے لے دن ہی او ہیک سوک ی سے ا سکاب کے مطالعہٹی من ہک ہوجا نمی :جیسے جیے اوراقی گردانی فرماتۓے جا یں گے و ےسے دی ےآ پک گا ہوں کے سان سےگعھوٹ مکندب ٠‏ ددوں لا دروں 7 کے دیزتیابات اشتے جاٗہیں کے اورآ پکو ناب ُم روزکی ط رح روش ن میق ت نظ رآ جاۓے 3000 والےڈھو لکا پل دکھا کی دےگا۔

ایک ضرودری ا مکی طر فی فا رین کرام 7 تج ہلت تک نا ا خدضرودریی ‏ ےکا سکاب میں ہم نے جن بھی جوانے دج سے ہیں٤‏ دہقام کے تمام وبالی دیو بندکی اورلیٹی جماعت کےمکت گی ہی شا ئ کردواورعلا ء دی بن یں صف او لکااوراہم مقام رین وا لے نی نیک یکتب سے بی اخ یئ ہیں کک ہج سک جو اس کے سر دالیشل پیک بھی ہوجاے اورمتا نی نک کی ےکا موق جھی ماس رنہ ہوک بر خالفگردوکاترام وبہتان ے۔

ان الا ےفیک کل یکر خ بر ےکا بل ادا فلردا از لجوارت عو ٣ل‏ 7

جم

موا ن مان ی نی علاحت .31ص٥٥‏ آط۰۷311:173. ۳٣۲۳۰٣۲‏

دای ء دلو بندکی اورہیتی جاعت کے

14 731.00 ا٥۶‏ آط3 ۳٣٣٣۲.۷٥٥٥۸7‏ مزا نا تھا وی انوس حمت

نٹتھانوىی صاحب نے در یکبابوں کےسوااورکوئی

تنا بیس می اوردر یکا ںبھیبپھول سے تھے“

ہاں تقیقت ےء اڑی تقیق تک جن س کا اکا تن سکیا جا سکماء اور تقیقت خود ان وی صاحب کے چی اقوال و ملفوظطات سےخابت ہے بیگوگئی سی سناکی خی مجر بات یں بل خودخھان دی صاحب کے افوطات کے جوم میں کی ہوئی یقت ہے۔ یی ا آ بھی ملا تفر مامی :-

مخ ےم ہت ص ہت صخض ‏ ۹ض ہت لف ک ‏ نت ہت ف ‏ من صخصمفصمفممھمے۔

ایک صاحب نے عم سکیا عفر تکونے علادہ اورکاموں کے ڈاک بی کا تل کام بہت ہے۔فرمایانرے ڈاک کےکام سے ہجھ و اہدتھزین کےکام سے جب بہوتا ہے۔سوتصفی فکا کام ا بکییں ببوناء تصائیف می قمام مضاشن پراحا طکرناپڑتا ےء اس ل فی کا کام بہت ڑا ہےء پیل دماغ میں تمام مضا می نکا ش کرناء پچ رمرقن بکرناء ا نک وتفویط رکناء بہت بی بڑکی مشقت کاُشفل ہے ایک سب ب تی فکی دشواری کا میرے لیے بھی ےک ہکتابوں پمیر ینرییسء در یکتاوں کے علادہ اور کتایں میں نے دلھی ہیں ہاں در یکزائیں پل بگ راد اتی طرح تحضر تیگ راب ان می بھی ذ ہول شروغ ہوگیاءاورصفیف کے لیمصرف دری

کناہی ںکائی نیہ بی وجہ ےک میرک تصفیفا ت کا زیادہ حص خی رننقو لات ہیں۔ اول و میرے پا سکنای کی اور جھ ہیں ان پرن ریس اورتمزیف برو ناو نکر ہے مکل ہے ج کا بک یئ ۔ای لے جوقادے آتے ہیںء دائہ ںسکردیتا ہولء ہاں جواب میس اچمالا اپنا ملک اہ رکردیتا

۱ ہوں اور ریگ لود باہو ںکد لو بنرے' و نے جلومکراو۔

مصفخفمصممخصمف خ8 نم ےم صمم مک > _ مم مہ ص مہ یم می خ م ے م-صف- می مم صممةص سب

مرخ مخ می _مفے می می مہ نم ےخ صخفصخصفصمم م رر می می مر مک مخ ص ہہ صمخصےے۔

موا ن مان ی کن علاحت .31ص٥٥‏ آط۰۷]11:173. ۳۲۳۰٣۲‏ 15

حت

(۱) الا فاضات الیومیعسن الا فادات القو مہ از: اشر فی نانوی ناشر: مکتت دائش دیو بند(ی لی ) لہ :ھا ۲ف ےہ ءملفرب ۹۰۳ (۴)الافاضات البومی من الا فادات القو مہ( جد ید اڑ'شیع )از:اشرف گی

تھا وبیء ناش کیہ داش دلو بن دیو می )ص۸ نے ۲۹ء ملفویز ٣۷‏

رشعبان مم اش سزا مد شب, بو بتک یش )

مندررجہ پالا مپار تکولفورمطالع بای اورٹھا نکی صاحب کےقوات حا فظکودادد کے ءال اقتاس پرکوئی تص رہکر نے سے پیل مزید چنجوالوں کے مطاللعہ سےبھیلطف اندوز ہوتے چچئیں :-

در( ار ا ای فا 1“ اف

فا مرک می صاحب ح رآ سےآے ہیں (واتاھرئل ٤‏

صخ>ص فص م_صمٗ ص مم مک مم ے مصمدے می مخ ص یب

فربایا: ولوی عبداگی صاحب حید دآباد س ےک ہیں مولانا اص دی رکشت سس تس ھت نے ایک بار اع سے ذک رک یکہ شی نے صرف در یکتائیں ھی ہیں اور ٤‏ سکنائی ںکیں دییھیںء ا ! نس متقا مات بض ورت وققنیہ و اننہوں ن ےتیجب س ےکہاک ہی سبچھتا تھاک یکم ازکم برا رکناہیں فذ ضرور ھی ہوگیا۔ ےسب رات اساتوکی مرکت ہ ےک شدرگ زی کان می ان ہوگیں جس ٤‏ سے وسعمت مطالع ہکا شب ہوچا تا ہے ( رف ایا )کرا اسچھا تھا ئچلراچھا ننس ر باء ایی داسےزیاد ہکتا/و کا مطال ےڈ لکیا کہ جب

نر ےگا تو مطالصر ےکہافارہ-

- -- و-ک--۰- ‏ ی---------ي> ---> و ت >> -- ۰-۵ ے>-

جو میےن ٠ی‏

دهھو-+ھ->کحج ھی

16 31.0 ا٥٥‏ ط173 ۳٣٢٣٣۲ .۷٥‏ مور نا مان وی انیس حمت

کلدیۃ الکن تمانوہی صاحب کےلفو ظا کا وط طہماکردہ: موا بی عبد ا مکںکوٹ بشلع :وہ پا ہام مولو ینپوراس نکسولوکی ناش :تہ تالیفات اش فی تھا ون بیع رمظڈنکر (بی لی )ص۵٣‏ ممخوی ٦٠:‏

1 1

ایک فووارد ال علم صاحب نے عون قکیا کر حضرت میں یک تتے ٤‏ دریاف تک کنا ہوں؟ ف رما اکراپنے اسا نزو سے دریاف تکینے۔عن ضکیاکہ ےڈ ان سےمعلو مکی تھ را ضتانی صورت پیدراہوگئی اورمی ر ۓ تم یفوک یکاکام ہےاس لیخت نکی ضردرت ہوئی ہف مکی اعلمق ان صاحوں ےکھج یم ٍْ ہے :مین سےآپ یی کر بے ہیں ۔بھکوحرصہوااں گل ھرۓہورۓے إٌِ اورمرےاں کی ےکپ نواشح کی نفراوریں۔ میں نے ذاش متوارف ٔ بھی اخقیار یی سکی بل رمیرےاندرجدکمای ہے ا سکوشھی ظا کرد یتاہوں إٌِ اور جن ہے کویھی۔ ہاں پل ائمدرڈ می رین دی ای ءاب دواھی آُِ نی دجی۔ بات ہارت اورمنا سب تج کا نام ہےء دہ بموکوفق ےبھی ہوئی ١‏ یئیں۔ ال خی رارف سے جھے مسبت ہے اود یگ ا لےکہ ٤‏ رت حادگی صاحب مت الظرعلیہ نے دع فر مالین یک ہج ےک راو روف آِ ۶ئ وقت اگراورعلوم کے لی ےکھی وی ا رالِٰا ٹٴ اوروں

ےبھھی مزا سبت ہوجالی- ِ

وم <کحے و ہ٭+ ھ ی-- -< ف٭ھ و --- ہ>٭-.->> ہے ن ح نج تن پچ>-

مسخصمخصم م ہے نے من م ‏ ےم خنصففےخ صن م مر مخ مب ١‏ صمر مصمب

مزا ن تمانوی نی علاحت 31.0 صصا٥٥آط173: ۳٣۲٣۲.۰۷1‏ 17

حت

(۱) الافذاضات الیومییعن الافادات القو می از: اشر می تھانو یہ ناشر: مکی دائش دیو بند(یو لی ) ج۳ ءھ۱۵ لیے٭ ۵ نون ۸۳۷ (۴)الافاضات الیومی کن الا فادات التقو می( جد ید ایڑشع )از:اشرف گی

تھانویء نا شر :کہ دانش دیو ند( یو لی )ص٦‏ ف۰۹ ملف وی۰٣م‏ (۹/ ادگ الاد لی اشاد-چ شب بجم'زظریگش )

مندرجہ پالا تن اقتقاسا تکا ,اح لہ ے.:-

تھاوکی صاح بک یکتاوں نر۲ ی۔

تھا دی صاحب نے در یکتاہوں کے علاواورکوئ یکنا بیںئیں وھ یچھیں _

تھا وی صاحب نےصرف در یکنا یں بی دنھیچھیں _

خانوبی صاح بکاحا فظطا لا ھی کےز مازہ میس اچچھاتھامرطال بھی کے مان کے بدا چھا یں رہا۔

تھا دکی صاح بکو پاھلی یاد نر بت تھا ای لی کاو ںکا مطالعہب ینمی سکیا ءکیو لک جب یاددی شر بتاتھاء مطالع ےگیاڈاٌرہ-

تھانوی صاح بکیک فق ےبھینبدت دعلا قہ ین تھا شض روریات دن کے مال سے ھی سکوئی علاقہ ج یہی تھا صر ف توف ا وق رےجج لی تھا

او صاحب کے پا لکوئی ام کتائی ںی حیہ چتن تنا یں ج ینمی گرا نکتاہوں بریھی 27۳ گی۔

تمانو بی صاح بک یکتابوں پرنظ رنہ ہون ےکی بج ےان میس فی یکین پل ذہتواءلہنراان کے پاس جواسنقت آتے تے ددوا مہ ںک۷ردیے ھا نچھر:-

18 صہ 1 صصدہد علطد2ہ ء۷۷/٣۷٣٣‏ موا نت نو یکیعلی صلاحیت

اع شی میں سے سوا لکاجوا بکھھن کے بجائۓ ”انا لک“ لیے تھے اوروارالعلوم

دلو بن سوا لکر ن کا مخور ولک نے تے_

دہالیء دیو بندی اورکعقی جماعت کےعیعم الامت تھا وی صاحب کی ھی صلاح تکالعرم ذذ تمہ للعمظفووراق ق7 ص۵/گ سھگ روت ران عام موا وی بای مد کےخطیب واما مکویھی ضرور بات دین ےعلق سے بنراروں مسائل یاد رکھے پڑت ہیں اوراے مسا لکویاد رن کے لیے پقعد یادداشت اورقوت حا فک تو کی ہون اش دضروری ہے۔کیو ںکرایک عالم دین ےقوم حعخخلف وتفرق عطبقات کے لو کم کے مسائل در یافقت رت ہیں اوران قرام مرا لکا لن ن صشش ارم جواب ہے کے لیےصرف در یکیو ں کک کی مرو دملورا تکا ینہ بلل ہکثزت سے خیب ردر کاو ںکا مطالہ درکار ہوتا سے ۔صرف مطالع جی کا ٹینیس بلہ ا کو یادرکنابھی لا زی ہے اور یادتب بی ر ےگا ء جب قوت حا فظہمی دم ہو ۔ گر وت جا ف کر ور ےء لو پھر ادرکنا بی نان ہہوگا اورا سی صورت می ں ]ھی اسشیدادوصلاحت ہگ تی یں کیو ںک یی صلاحت واستحداد بادداش تکی جگ کی بقیاد پٹ ہے۔ اکم بادداشت یقت حافظا تما یس ء ھ رگ ےکم سے۔ ایا فی صرف ممکا مولوکی ی نکررہ جاتا سے علماء میس ا سکیا ہرز شا یں ہو سلتا_

نی طا رکشت کت گا ئن ا تا شر تن کے مسائل می کی ایاگ لکھااتے تھے ددخودقھائ وی صاح بک ز بای سعاعمتکر می اورا نکی شان ریہ“ سک لبھلت یھی راز جال العباوات ےء ا سکوڑح طور پراداکرنالازٹی ے اور ما زیچ اداجب دی ہہوگیء جب نمراز کے سکنل معلوم ہو کے ہیک جا مسلما نچھ یکا حدکک نماز ےم ائ کی واقت رتا سے کین وہای ء دی یندیی او ری اعت کےجیعم الات او نام تاد مردجناب ٹھا نکی صاح بکینماز کے سال می ںکپیمی معلوماتتجحی ء دہ ملاحظفظر ای :

موا ن مان ی نی صلاحت .31ص٥٥‏ آط۰۷]11:173. ۳۲۳۰٣۲‏ 19

از سمع اللَهلِمَنْ حَمۂ نااہڑمن''

ف<ھ-< ہ.- و سج ہي ہي ہي ہي ہج یہ ہ-ص جح ي> >> ہے <×ح <- و چ>-

انی یچ ایک صدے. نع براصرارہو و تاے۔ إْ چناضجہ پیل نماز کےاندر” سُمع الله لِمنْ حَمدۂ“ یس دا لکککریککر 1 ۳ یجس جوم رید تھے مانہوں نے بش ملع سی یو سن خیال رکھوںگاء پل ریس نے اصلا حکرکی۔اگر اصرار ہوق کیہ دےگمر کے ادب ے۶ ۸/ باتط را اشےا٭+ ھی عو ہوٹی ے۔ إْ

ےو >->ک و-ے -ہ--جىت کت ٠ک‏ ہ-٭----ض>ت-ک یت -ک ‏ --ک- 0-۰-۵ -ک- [-ے>-'

٭

. . . ٦ ٦

سن الحزی:( تھاندی صاحب کے لفوطا کا جھوعہ )ھتہ :یع مولوی مر بس ف بنوری ذنگیع مولوی ممصع فی وخی رم ناش مکتہتالبغات اشر فی ھانہ بھون بشلع رمظڈنکر,(ی لی ) ۳ق ینہ اص ف۵۳

( کر مان لحم سیا یکس )

مندرجہ پالاعبارت می تھا وکی صاح بکچھوٹے لوگو ںکوادو بسکھا ر سے ہیں اود وہ کہاگ

کی من رگنس ےھ انفا فیک لی ہوجاۓ نذا زار کک اڑی انظاقیغلی پکرخت نیس

رن چاہے ہہ خامشیء ہنا جابیےء ہاں ١‏ دہز رک ا نیع پر اصرارکرت ہو یشنی ہییشہ دن ینمی کرتا موہ بت ارب سے اس نر ککواا سکیلعی پر برک رن جایےء اود زار کک دائ یش یکی مال دتے ہو ے مان وی صاحب نے اپنا خودکا بی معاملہ بیا نکردیا۔ یڑ خھانوی صاح ب نما زکی اماصتکرتے روغ سےکھڑے ہوتے ہو ”مع ال لِمن حمدۂ“ کج وتتانظ ہے زار چھونتئل ک2 اک کے تے اوراس طر حکہناملط ہے تھا دی

0٥۰. 20‏ صصا ط137 ۷371. ٣۷۷٣۲۷‏ موا ن تزائو شی صلاحت صاح بک بیع ایک دو مرج کی بااتقاقہ تی بل وہ بمیشہ نٹ یکرت تےلمکن تھانوی ا ک ار ے فقاو را کی زار تن زان کی وا ول راک ع ص بتک برداش تکیا۔ پیر صاح بآ اپیعی درس تفر بالیس گےبئل ورس تفر بای گے اس امی ٹیل ای کعر تک انظارکیا یکن مر بیدکی امید بر ضہآگی۔ پیرصاحب انی جہال تکا دای طور بر مظاہر:ف مات رہے۔م بد کے صب رکا پیاضہلہ ریز ہیا ادرایک دن مربید نے اپنے پیرصاحب تی دالیءد یی دی اورنٹی جمامعت کے جائل مجدوٹھا بی صاحب سےعوت کر دیالکہپیرگی !ای کع صہ ےآپ ا می میس بنا ہیں ءاہزااصلاح فر مال ہم ید کے تفبرکرنے پرتھانوی صاح بکواٹی کٹ یکااحماس ہوااوراٹھوں نے اصلا عکر ی-

یئل !تھا دی صاح بکوغمازی سکع طور بر ”مجع الله سڈ“ “کنا بھی1 تھا ایک عاممسلما نکھی ای یی سکرتا۔ چائل سے چائل من سلما نبھی عا ‏ طور یر یع اللَأُلِمَنْ مل“ 80 ھ77 سان ےک پٹ جج تلذ کے اداد اکر لیا ہے۔ ایا آ سا ناف اجھی نام نہادمبرد کے لیے دشواررھا۔ ایک طو ری حر ص تک غلیط ادا کرت رہے اور جب می نشی پرنط ع کیا اصلا کی ۔ ]شی یرمجددصاح بعوا مکی اصلاح کرنے دنا ہی ںآ ۓے تے بللیگوام سے اپئی اصلا حکروانے نے دخیائی ستشریف لاۓ تے۔

سم 0اا ا 00ر

تھا فوکی صاح بکوخماز کے مسا لبھی بادنہ تھے ۔کیو ںک نما ز کے مسا ل انتک کم فق سے ہےاورتھا وی صاح بکیکم وق ے - سبت اورمہارت ٹینی لہ یں سکنے می سچھ یکوئی مبالظ ھی ںک بھانوی صاح بکیعکم فقہکی معاو مات یی ادردونق با تام مال فرا من کر ہے تھے ۔ ایک

حول یٹ غدمت ےت

مو ان تزائو ا صلاحت .31ص٥٥‏ آط۰۷31:173. ۳٣۳۰٣۲‏ 21 یف د لوق صاحب نے سو اہنت زی می اکر وجب ٤‏

ایک ووارومولوگی صاحب نے سوا لکیا کر نحخرت نما زعید مل ١‏ ار واج آِ ترک ہوجائے۔اتقاجی سے پائۓ ےک مضرت دالا نے ددیافت فرمایاکہ آٌِ ٌ مس نے پپا نکی سکون صاحب ہیں۔عن کیا اکٹل فلال ہول اور حاضر ٌ آٌْ ہوا ہہوں ءفرما کہ یھ مسائل جز یہ باڈنٹںل ۔ میں خوداپنی ضرورت کے وقت آٌْ إٍِ وو ےعلاء سے پہ چھ یو یرک لکرتا ہوں۔ دوسر ےکہ بی فقہ کے مسا لک آٍِ ٌِ تی نکی منٹییں_ رای نت لکام ہے اورائمدمقددیوبنداورسہار پورش ٌْ و بڑے پیا شہپربود سے اوکیاآ پ کے ےکا مدان سا لک ین ے؟ ١‏ آٍْ ىا ضس ئن ھسط گیوںگی؟ آْ گے ہر کال اورم وخ ہوتاہے۔ یں اپنی حاات ےآ پک یع کے دباہوں ا إْ کیپ جھوکے یس تد ہیں ۔ و یوک ٹلا ایک طال بملم ہوں اووراسا َ۶ ٍْ گا جج پیلیٹھ ایلوا ڑھاتھاء اب وہجھی بھو لگیا۔ إِ

٭-٭-> ہے -- > ٘-- ہج ی نک ہ ج ن ي>->--و->--ي ح-< جن پب>-

(ا) الافاضات الیبومیع٢ن‏ الافادات القو می از: اشر فعی خھانوىیء ناشر: کت داأش دیو بند(یو پی) جلد :ےہا فی۵ ۵ہ ءفوی۸۰۷ (۳)الافاضات الیومی ین الافادات التقو مر( جد ید ایشئع )از:اشر فگ

تھانویءناش :کت دانش دیو ند (یو لی ) حص ی۲۴۳ ملفوی ۳(۱ (ھ۵ارشوالالمکزم ۵-ےہ بعدخما زظ یں )

تقا خی نکرام غورف رما می سک ہیک مرو کے منصب کے دو برا رکونما زعی ٹل نزک واج کا آ سان م تھی پاؤییں ۔متلہ پاوئیس ال سک یکوکی شکایت پا ا سو لیس بل خجرت ناس بات بر سے کسائ لکو بیکہاجار ہا ےک ہمتلہ پا موک رآ پ زیاد ہکردے ہیں۔ اس عہارت برع یرتقینوخعیل

31.00 7ا٥٥‏ ط173 ۳٣۰٢٣٣۲ .۷٥‏ مزا نا تھما وی 07

کر حال الپ اڑارے:-

0 ے0اج

خوا م:: اکن نمور مچزوب جوھانوبی صاحب کے لہ خخاضص بلہ اکا بر غلفاء ٹیٹس سے تھے اورجخھوں نے انوہ صاح بک حبت میں ااسب پگ بچھادرکردبا تھا۔ تھا بی صاحب کے اس عاشنی زار جت ےک افھوں نے تھا وی صاح بک ہیڑکی نن ےکی تمنا خودھانوبی صاحب کے سا نے ا ہرکیای :نوا زی :ان نکی“ یک رٹھاٹوئی “ےکی خوائش پرٹھانومی صاحب بہت مسرورہوے جے اورانھولں نے خواتیز زان صاح بک اب ہوگا اب ہوا ام دو سنا پاتھا۔حوالہ:اشٹرف السواجء جلد:۳,ص:۲۸) خوا ب۶ ×: - نے نانوی صاحب 22 حیات''اٹرف الواطً“ ٹن چلروں یع اور ایک جلر” ما 727 تزف فرالی سے علاوہ ھا وی صاحب 2 لفونیا تک موم ۳ ون الھزی*“چارجلدوں مل ہ بیجگی انی لک یکا لکاشمردونتیے۔

خواجزی: ئن صاحب سفری اورتفرمیں بییش تھا نوئی صاح بکی محیت وقریت سے مستتفیروستنیض ہہوتے تھے۔ ایک مرجرخوایزی :ان صاحب نے نھانوی سےایک متلہ مو چھاء رکیا ہوا؟ ملا حظایظر اتمیں:-

ہوم مےم مم مم ےم ممیےمجمےیےلیچیےیمیےیے٭م>

خوایرصاحب نے ین سے تلق یج مسرائل و یھ نے فرمایاکہ اننخزاء

آٌْ کہنماز روزہ یل رہولء اورسوالۓ اصلاع باعفن کے بج سے بتھ

اص

ٌِ 1 ا ا ماقاے ٦‏ 7 ٤‏ 1 ٌ

موا ن مان ی نی علاحت .31ص٥٥‏ آط۷11:173. ۳۲۲۷٣۷۲‏ 23

سن الحزی:( ھماندبی صاحب کے مفوظا تکا موم )ھجب :حگیع مولوی مر یس فنوری ونگیع مولوی “فی وخیرجماء نا شر مت ہتالیغات امش رفیہہ فان پروں ضلع, مظفمگگل (ل) ہق الاول اطزا“ دویشیہء عم جنوری

ہے ایا ءیاجاس :ج٣‏ تفر صفہ.۰اا سکس لصف سم

ڑے ےت

جو دک و وم ڑا نت ا ظز نل کت جح نل تحت کا رت و وہ و کہ وت و ہل جک کا دب لاح کا ایک وداردصاح کلاس میں ٹیٹھے ہوئے ‏ ےک ایک اورصاحب نے مج یکو إٍْ آٍِ خرن والا ‏ ۓےلمنی ق لن نا دنہ مال ای نٹ ی من کو را۔ إٍْ 1 جخرت والا نے جواب دے دیا۔ ان نو واروصاحب ن بھی اسی سلمملہ یں 1 پ٠‏ عوت لکیاکہمیس بھی بای مسمائل پوچھنا چابتا ہوں ۔فرما کراب میں اس آٍِ کا انیس ر ہا۔ مسائل زیادہ یادشھ میں یں خوددوسرے علاء سے ممائل إٍْ 1 إٍ

سہھہصب

وک لکرتاہوں۔ یہاں پمفتی صاحب ہیں ان سے سال پو نے ہیں ا داز

ھ|أآً.>صو-.- وس ہے وص >> ہج کے ہج ح- --ے یک مق.< تن ي> جن _>-

(ا) الافاضات الیومیع٢ن‏ الافادات القو می از: اشر فی خھانوىیء ناشر: 7 ۶ و و (۴)الافاضات الوم یمن الا فادات القو مہ( جد ید اڑششیع )از:ا شرف گی ما وی ناشر: کت داْش دیوبند(بو ی )ص۸ نی ۲٣۷۴۹‏ افو ی۲۵۳ (*ررجب ا رصبرا۵ لاد بیکش بعدفانزظریڈش )

24 ہ31 صصتا دہ آط7 ٣۲٣۷۲.۸۷٥۸۲۸‏ مول نا وا وب یکیعکی صلاحت

تھانوبی صا ح نف بی مال کےحلقی سے سے سےسوال سے انناکھبراتے جےکیفورأتتعیار ڈال نے سے اورتائع ہوکرفورا اپٹی بے بضائقی کا احتزا فک کے مسائل بتانے سے اپنی جان برا لیت تے اور دوسرے عماء سے ور اف تکر لی ےکا مخورہ دے دنین تھے کیو ںکہخودتھا وی صاح بکویھ نشی مسائل یادنہ تھے دو خودیھی ضروریات دبن کےٹعٹپی مسائل دوسرے علماء سے پاچ چوک ل کرت تے۔

مازکی جب نماز بڑہتاے:حب ووز ۲ن پر جا نماز (مص٦کی‏ )اکر نماز مڑ تا ے کیو ںکہ خماز می سد وک ناپڑ سے او رحبروز ین پت یکیاجا تا ہے ہنا ہرغمازی نماز پڑت وقت جا نماز ھا تا ہے۔کیان نماز جنازہ ٹس جا نماز بچھائ نیس مجاٹی کیو ںکنماز جنازہ شی سحبدوئیں ہے۔نماز جنازہ صرف حالت قیام مج مج کیز ےکیٹرے بی اداکی جائی ہے۔ ال جقیقت سے ہرعام وخائس ملمان وافقف ہے پگ کیک جا لن کویھی معلوم ہوتا ‏ ےکیزماز جناز وم ہحبدہنرہون ےکی وج سے جا نما زکی ق کو ضرورتیسو ںی سکی ای جب ایک جا اخ کوہ بات معلوم ےا نماز جنازہپڑھانے والا امام نذ فی طور بر اس تقیققت سے باخج راو رع ہوتا سے کان دادد ہیی !وہای ء دلو بندیی اورعقی جماعت کے نام نہادمپردی لی صلاح تکوکہنماز جناز دکی امام کر ےکچ گے اورج نما زطل ب خر مائی ‏ حوالہملا تفر ما عٍں:-

ہے مموے مم لیے مےیےیےیےیےیےی ہے

گا فرما ایک مرج ہنیرک کے زمانہ یٹس قص ہکیرانگیا۔ ایک جنازہ بڑھان کا انفاقی ہواء شی نے و چولیا جا ما زکہاں ہے؟ ن ای کآ دیی ہو اکس و پچ رہم لوکوں کے لیے ایک ھا نکی ضرورت ہوگی ۔ مطلب پت اکہاگرامام کے لیے چانما ز‌ ضرورت ےو مٹنرزرں کے لیےکھی ضرورت بوگیءاورخھان کی نی رکام نہ گا ء میں شرمنرہ ہوا او رس ملا۔

-->-و-> تج - -ت-> تی -.->- ۵ ےت ت --- 0 - ھ>

-کڑھ ٭ -- 6 -- ٭ 9> کے ۱- 3 .کت ح ت حصع-قٰ سمہمم نہ ص نم مصحب

ا

موا ن مان ی کن صلاحت ۳٣۲۰٣۷۲ .۰۷11:173طآ٥٥اصص 3٥.0‏ 25

کرت الم ء ھانوبی صاحب کے مذو ظا کا وت ءطہطاکردہ: مولوئی عبر اف سک کوٹ بل نت رہ پا جتنام: موی نپو اس ن سولوکیء ناش علیہ الات اش فیے تا نبھون بشلع :مظدگر(ی بی )ق۸ ر۸۵

رر رف

ایک مر دکا لغ عم اتا بلند بای ہو تا ےکہاس می چم وادرا ککا وصف ا تنا و ہوتا ےک دہ ہر یکی بات :ول بل اورعبار تکواکھی رح بھ لیا ہے۔ بل سال اورقائل کےسکت ےکا مطلب و مقصداوراا سکی مرا ویک گحہ میس ان لھا ےہ پان لیدنا ےھ لا سے اور ا لک غا یت نمی تکی تد کک جا تا ہے جم ادرک کے ساتحوساتھ اس میس افمام نی مکی صلاحی بھی یش ومشال ہوتی الا می مال جوبمحص علاء کے لےمشکل دش نہ نزک بادیک بلمہ لاس‌ل ہوتتے فیس ۂ یئ ل کو ان کے تچز فیا ازع رائلی سال ےک نکی فو ونب خیا را تک علما ہسنفل ۲ن کے اقو ا لکوء ان اق ال کے ہو مکوہ اس کی تشر ون ش کونظرواحد میں جاڑ لپتاے اور ا سکواکپچھی طر ح کپچ کر ای ےجلہمانہانداز اون الوب ہے تمچھا بھی دینا ےک ہپمتص علا بھی خر وی ےاگشمت بوترازع زوا ہن ۔آبوزدٹل ان اذضا فکا جات اتل گی ہ ےکیو ںکردود ین ینتج یدداحیاء کے لیے ہی دتیا ی۲ سکھ گیا ہے۔

جماعت ےن ا پردک ہم واوراک گیا بےبھیء بے اظتناکیء بے برکیاء بے شیا ء بے سی اور بے انی کا ی الم ےک فو داپٹی ہاھی ہہوکی عبا رت بج می نہیں

آئیں۔جوالہ یی غدمت ے:۔-

26 731.0 ا٥٥‏ ط173 ۳٣٣٣۲.۷٥‏ مزا نا تھما وی اکوااضت

إْ چنا خی عباری می جی بک یھی ہوئی اب خودمیری ہ یکپھھ می ہیں ۱ آی۔ ِ

>2< حی ہچ نص < تن ي> ت--ّ> یج وت ک-۵-ک- ت ص٠۰‏ ۵< ت۶۰ ج ص٠‏ ۰-۵<> 3>

(ا) الافاضات الیومیعن الافادات القو می از: انشر فی خھانوىیء ناشر: کت داأش دیو ند (ہو لی ) لد می شس تیسری جلد ۳ا ف٣۲‏ ,افو ۲۸۳ (۴)الافاضات البومی من الا فادات القو مہ( جد ید اڑ'شی )از:اشر ف گی 0-727۴ وی ت سے (۱۸ رر جب ال رب ایا کیک شنبہ بعدطمازظ یں )

ھاکھا ہاش“

اب ایک اقتبال ایما نشی خدمت ےکس سےآپ اندازہلگالیل گےکرد پل ی دلو بندگی اتی جداعت کے نام مہا مبرد جناب اشر فعی صاحب تھا وی صاح بک شی می سکس قرر درو غگوٹی ےکا م لیا جار پاے۔ تھا دی صاح بکوز بروست عا لم ءصاحب تصاتی فکشم رر مصنف ہے مثال مفکر وش قومء اد ملتہ مبرددین او رسیم الامت کے اع سے اعلی منصب مسکن تانے کے لیےصدق وصداققت کے دانع سے ہا جن فک رکب بای کےگہرے پائی می وط ز نی کی جیہم لا یی ہے دوکتتی نموم ہے ا کا انداز و مندرجہ ذیلل اقتا کو ری ہو حنے سے آجایگا۔

مو ان تزائو و خرن .31ص٥٥‏ آط۰۷11:173. ۳٣۳۰٣۲‏ 27 جا ا ا ا ہر

1 فرمایاکردو زس یں جو باوج دگرارمطالعہ کےبھی ضہی کڑس ریس _ مطالب 8 مفنوی شریف ومعانی قرآن ید مر یکلام مجید پڑعوں ن ضرورت کے ۂٴ موافقی قوعل ہوجا جا ۓےگمر پور تی پالئل حاضرنیس رہتی۔ج بکوئ یآبیت عمل رن ےکاحاجت ول ہے اپنیائفی سے دک رح لکرتا ہویں۔ پھااککا ہواباوڈل رہتا۔ إٍِ ای ططرں مشنویی ش ری فبھی برون مطال نیس پڑھاسکتا۔ إٍِ

-->و--<جفی->->-ہ حے ت-ي> ہي ہج ہے --->> -ن-ے> ح- ‏ جح[ ي>>صح-ے ن ‏ ب_>-

ےو +ےھ--م

سن الحزی:(تھماندبی صاحب کے مفوظظا کا مجحھوصہ )ضہماکردہ: خواج ۶یز اس ن فور میزوب از :اکا بر غلطاء صاحب مخوطاتہ باہترام: مولوی پور اص نکسولویء اش کت تالیفات اش مہہ تھا نبھون بشلع : مظگر, بی )

جلراو لک <ص×۳, تما ۱۸ء فو ظا ۸ جس ۷ ام لص سم (ےعادؤالا ل٣٣سا‏ ےل ؟ش )

نی فانوی صاح بکی)لھی استعدا دکمشنوبی شری فج یآ سا نکنا ببھی ای رمطالحہ کے طل ہیں بڑھاسکتے تھے علا داز یں تھا گی صاح بکوخوداپناتی پچ ھلاکھاہہواباوکیں تھا

ایک اہ نکی طرف قا ری نکرا مکی تقجرم کو زکرانابھی ضروربی ےک ”صن العزیسکترا بکا مندرجہ پالا اقتباس تھانوگی صاح بکی ےہ ہجمادیی الاولی تاس سام کیا ںکا ہے۔ یشقی وس سان میں تھاوکی صاحب اعترا فکرد سے ہی ںکہپچھااکھا ہوایائیں ۔ تھا کی صاح بکا انا لما سام مل ہوا ہے۔ابذاغابت ہوا افقال کےسال 5ساد کے اٹھائس(۲۸) سال پیل بی تمانوبی صاح بکی قوت حافظ جواب دے جگیگی۔ بللہ اب نوھد جوانے ای پیٹ غدم تکردسہے ہی ںکمصرف ایک مکل ہکا جتز تھا نکی صاحب ایک سا لکی لویل مر تک ککتاب میں دوک گی یں ڈحونرحھ کے تے۔

28 31.00 ا٥٥‏ ط۸73